ہفتہ 7 نومبر 2026 - 04:23
روایات کے نام پر علمائے حق اور مراجعِ عظام کو نشانہ بنانے کی مذموم روش

حوزہ/یہ طرزِ عمل محض ایک علمی غلطی نہیں، بلکہ عوام کے دینی شعور کو متاثر کرنے اور انہیں علمی و فقہی نظام سے بدظن کرنے کی ایک خطرناک روش ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| آج کل بعض گمراہ اور بے ایمان ذاکرین اور شعرا کا ایک افسوس ناک طرزِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ وہ اہل بیتؑ کی بعض منقول روایات کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کرکے علمائے حق اور مراجعِ عظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ چند روایات کے الفاظ کو سیاق و سباق سے الگ کرکے اس طرح بیان کرتے ہیں، گویا ائمہ طاہرینؑ کی تنقید کا اصل ہدف آج کے فقہاء، مجتہدین اور مراجعِ تقلید ہیں۔ اس طرزِ بیان کے نتیجے میں عام مؤمنین کے ذہنوں میں مرجعیت اور تقلید کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔

یہ طرزِ عمل محض ایک علمی غلطی نہیں، بلکہ عوام کے دینی شعور کو متاثر کرنے اور انہیں علمی و فقہی نظام سے بدظن کرنے کی ایک خطرناک روش ہے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ائمہ طاہرین علیہم السلام کے ادوار میں بنی امیہ اور بنی عباس کی حکومتیں قائم تھیں۔ ان ادوار میں ایسے درباری قاضی، فقہاء، مجتہدین اور سرکاری مفتیان بھی موجود تھے جو اہل بیتؑ کی امامت کو تسلیم نہیں کرتے تھے، ان کی تعلیمات سے دور رہتے تھے اور حکمرانوں کی خوشنودی یا اپنی ذاتی رائے و قیاس کی بنیاد پر دینی فیصلے صادر کرتے تھے۔ زیرِ بحث روایات میں بیان کردہ تنقید کا تاریخی پس منظر اسی طبقے کے طرزِ عمل سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ لہٰذا ایسی روایات کو آج کے ان فقہاء اور مراجعِ عظام پر منطبق کرنا، جو اپنی پوری زندگی قرآن، سنتِ رسولؐ اور تعلیماتِ اہل بیتؑ کی روشنی میں احکامِ دین کے استنباط کے لیے صرف کرتے ہیں، صریح ناانصافی ہے۔

اجتہاد کو قیاس، فقاہت کو ذاتی رائے اور مرجعیت کو اہل بیتؑ کی مخالفت قرار دینا ایک سنگین فکری مغالطہ ہے۔

یہاں ان ذاکرین اور شعراء سے چند بنیادی سوالات ہیں:

کیا انہیں فقہ و اصول میں اتنی مہارت حاصل ہے کہ وہ برسوں کی علمی تحقیق اور اجتہاد کے نتیجے میں صادر ہونے والے مراجعِ عظام کے فتاویٰ کو رد کر سکیں؟

کیا محض چند روایات پڑھ لینے سے کوئی شخص مجتہد بن جاتا ہے؟

کیا منبر پر بیٹھنے، شعر کہنے اور جذباتی تقریر کرنے سے کسی شخص کو دینی مسائل میں فتویٰ دینے کا حق حاصل ہو جاتا ہے؟

افسوس کہ بعض لوگ اپنی علمی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے عوام کو تقلید سے بدظن کرتے ہیں، مراجعِ عظام کی توہین کرتے ہیں اور اپنی اس روش کو محبتِ اہل بیتؑ کا نام دیتے ہیں۔

حالانکہ اہل بیتؑ سے محبت کا مطلب ان کے قائم کردہ دینی نظام اور ان کی فقہی تعلیمات کو کمزور کرنا نہیں ہے۔ ذاکر کی ذمہ داری منبر سے دین کی تعلیم دینا اور شاعر کا کام اپنے کلام کے ذریعے محبتِ اہل بیتؑ کو فروغ دینا ہے، نہ کہ اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر فقہاء اور مراجعِ عظام کے خلاف عوام کے ذہنوں میں نفرت پیدا کرنا۔

مرجعیت اور تقلید کوئی ایسی چیز نہیں جسے کسی ذاکر کی تقریر یا شاعر کے چند اشعار کے ذریعے مشکوک بنا دیا جائے۔ یہ ایک سنجیدہ فقہی نظام ہے، جس کی بنیاد اہلِ علم کی طرف رجوع اور شرعی احکام کی تحقیق پر قائم ہے۔

جو لوگ اہل بیتؑ کے نام پر عوام کو علمائے حق سے دور کرتے ہیں، انہیں دوسروں پر اعتراض کرنے سے پہلے اپنی علمی حیثیت، دینی ذمہ داری اور منبر کی حرمت کا احساس کرنا چاہیے۔

منبر ذاتی شہرت حاصل کرنے، دوسروں کی تضحیک کرنے اور فکری انتشار پھیلانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک دینی امانت ہے۔ اس امانت کا حق ادا کرنا ہر ذاکر، خطیب اور شاعر کی ذمہ داری ہے۔

اہل بیتؑ کی محبت کے نام پر مرجعیت سے نفرت پھیلانا خدمتِ تشیع نہیں، بلکہ اسی مکتب کے علمی اور دینی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جس کی محبت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha